کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیاء ہوتی ہے — فیضہ علی کا WWE اسٹائل لفٹنگ اور پاکستانی میڈیا کا المیہ
جب ایک قوم مہنگائی، بے روزگاری اور خون میں ڈوبی ہو — اور اس وقت ایک ٹی وی ہوسٹ لائیو شو میں WWE اسٹائل لفٹنگ کروائے — تو سوال یہ نہیں کہ فیضہ علی نے کیا کیا، سوال یہ ہے کہ ہمارا میڈیا ہمیں کہاں لے جا رہا ہے؟
فیضہ علی پاکستانی شوبز کی وہ شخصیت ہیں جن کا نام آج کسی ڈرامے یا گانے کی وجہ سے نہیں — بلکہ مسلسل تنازعات کی وجہ سے زندہ ہے۔ ایک وقت تھا جب فیضہ علی کو اداکاری میں سنجیدہ کام کی وجہ سے جانا جاتا تھا۔ مگر گزشتہ کئی سالوں میں انہوں نے جو راستہ اختیار کیا وہ فنی ترقی کا نہیں — بلکہ مسلسل وائرل ہونے کی ہوس کا راستہ ہے۔ رمضان ٹرانسمیشن کے متنازع کلپس، ڈاکٹر نبیہا کے ساتھ اسکرپٹڈ ڈرامہ، شوہر کا کرتا پاجامہ پہن کر شو — اور اب لائیو ٹی وی پر الٹا لٹکنا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، یہ ایک سوچا سمجھا کنٹینٹ پلان ہے جس میں فن، اقدار اور ذمہ داری — تینوں کو قربان کر دیا گیا ہے۔
📺 وائرل ویڈیو کا معاملہ — لائیو ٹی وی پر کیا ہوا؟
13 اپریل 2026 کو ایک ویڈیو وائرل ہوئی جو محض ہنسی مذاق نہیں تھی — یہ لائیو نیشنل ٹی وی تھا جسے لاکھوں گھروں میں بچوں سمیت دیکھا جاتا ہے۔ فیضہ علی کی بیٹی فرال نے سوتیلے والد ایجاز خان سے لائیو شو میں فیضہ کو اٹھانے کی فرمائش کی — اور انہوں نے کر دکھایا۔ نتیجہ یہ کہ فیضہ الٹی ہو گئیں، دوپٹہ اُلجھا، اور پورا منظر اس قدر بھونڈا تھا کہ ناظرین نے اسے WWE کے انڈرٹیکر سے تشبیہ دی۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ تفریح تھی؟ کیا قومی ٹی وی پر اس طرح کی حرکات پیشہ ورانہ ذمہ داری کے دائرے میں آتی ہیں؟ جواب نفی میں ہے۔ یہ وہی چینل ہے جہاں دوسری طرف خبریں آتی ہیں کہ بلوچستان میں کتنے افراد شہید ہوئے، مہنگائی کی وجہ سے کتنے خاندان دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں — اور اسی چینل پر ایک سینئر ہوسٹ الٹی لٹک رہی ہے۔
💍 شادی کا اعلان اور پھر مارکیٹنگ مہم
فیضہ علی کی شادی کا اعلان عید الفطر کے دن ہوا — اور اس کے بعد سے جو سلسلہ چلا وہ محبت کے اظہار سے زیادہ مارکیٹنگ مہم لگتا ہے۔ پارک میں رومانس کی ویڈیو، انسٹاگرام پر مسلسل پوسٹیں، شوہر کو ہر پلیٹ فارم پر متعارف کروانا، اور اب لائیو ٹی وی پر یہ ڈرامہ — اتنی تیز رفتاری سے آنے والا یہ مواد دیکھ کر سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ واقعی خوشی کا اظہار ہے یا ریٹنگ بچانے کی کوشش؟
جب ذاتی زندگی کو اس حد تک پبلک پروڈکٹ بنا دیا جائے تو پھر تنقید کا شکوہ بھی نہیں چاہیے — کیونکہ جو چیز آپ خود بازار میں لاتے ہیں اس کی قیمت بھی بازار ہی لگاتا ہے۔
🎭 اسکرپٹڈ رمضان شو — کیا یہ دھوکہ ہے؟
سب سے سنگین الزام جو فیضہ علی پر لگا وہ یہ تھا کہ ان کے رمضان شو کے وائرل لمحات پہلے سے اسکرپٹڈ تھے۔ لیک ہونے والی آڈیو میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ڈاکٹر نبیہا کے ساتھ جو "حیران کن" مناظر لائیو ٹی وی پر دکھائے گئے وہ ریٹنگ بڑھانے کے لیے منصوبہ بندی سے ترتیب دیے گئے تھے۔
اگر یہ دعویٰ درست ہے — اور ابھی تک فیضہ علی نے اسے مکمل طور پر رد نہیں کیا — تو یہ محض تفریح نہیں بلکہ کروڑوں ناظرین کے ساتھ دھوکہ ہے۔ عوام کا اعتماد ایک میڈیا شخصیت کا سب سے قیمتی اثاثہ ہوتا ہے — اور جو لوگ اسے ریٹنگ کے لیے بیچ دیں وہ اس پیشے کے اہل نہیں۔
⚖️ PEMRA کی خاموشی — دوہرا معیار کیوں؟
PEMRA — پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی — کا کردار اس پورے معاملے میں بالکل غائب نظر آتا ہے۔ یہ ادارہ اسی لیے بنایا گیا تھا کہ میڈیا پر نظر رکھے، ضابطہ اخلاق نافذ کرے، اور عوامی مفاد کا تحفظ کرے۔ مگر ہوتا یہ ہے کہ جب کوئی بڑا نام لائیو ٹی وی پر حدود پھلانگے تو PEMRA خاموش رہتا ہے — اور جب کوئی چھوٹا یوٹیوبر معمولی بات کرے تو فوری نوٹس جاری ہو جاتا ہے۔
یہ دوہرا معیار پاکستانی میڈیا کی اس بیماری کی علامت ہے جہاں قانون طاقتور کے لیے لچکدار اور کمزور کے لیے فولادی بن جاتا ہے۔ اگر PEMRA اپنی ذمہ داری نبھائے تو فیضہ علی اور ان کے چینل کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے — لیکن ایسا ہوتا نہیں۔
👨👩👧 شوہر ایجاز خان اور دوسری شادی کا تناظر
فیضہ علی کے شوہر ایجاز خان کے بارے میں جو معلومات سامنے آئی ہیں ان پر بھی غور ضروری ہے۔ وہ یوکے میں کاروبار کرتے ہیں، اور یہ ان کی پہلی شادی نہیں — پہلے سے اہلِ خانہ موجود ہیں۔ اسلام میں دوسری شادی کا حق موجود ہے، اس پر کوئی اعتراض نہیں — مگر اسلام یہ بھی کہتا ہے کہ پہلی بیوی اور بچوں کے حقوق ادا کرنا فرض ہے، اور برابری کا معیار قائم رکھنا لازم ہے۔
جب یہ شادی اس قدر عوامی تماشہ بنائی جائے تو یہ سوال اٹھنا فطری ہے کہ کیا یوکے میں بیٹھا وہ خاندان بھی اتنے ہی جشن میں شامل ہے؟ کیا ان کے حقوق اور احساسات کا خیال رکھا گیا؟
📉 میڈیا کی ترجیحات — قوم کو جاگنا ہوگا
ایک ذمہ دار میڈیا قوم کو جگاتا ہے، اسے اصل مسائل سے آگاہ کرتا ہے — جبکہ ہمارا ایک بڑا حصہ قوم کو اسی نیند میں رکھنے کا کام کر رہا ہے جس میں وہ پہلے سے ہے۔ فیضہ علی اکیلی نہیں — یہ پوری انڈسٹری کا المیہ ہے، مگر جو جتنا بڑا پلیٹ فارم رکھتا ہے اس کی ذمہ داری بھی اتنی ہی بڑی ہے۔
ہم وہی ہیں جو تنقید بھی کرتے ہیں اور دیکھتے بھی ہیں، شیئر بھی کرتے ہیں اور کوستے بھی ہیں۔ جب ہم اس طرح کے مواد کو ری ایکشن، کمنٹ اور شیئر سے انگیج کرتے ہیں تو الگورتھم اسے مزید پھیلاتا ہے — اور میڈیا چینلز کو یہ پیغام ملتا ہے کہ عوام یہی چاہتے ہیں۔ تو پھر اگلی بار جب ہم کہیں کہ "میڈیا گر گیا ہے" تو پہلے اپنی انگلی اپنی طرف موڑنی ہوگی۔
💬 نتیجہ — احتساب کس کا؟
آخری بات یہ کہ فیضہ علی پر تنقید اس لیے نہیں کہ وہ دوبارہ شادی کی خوش ہیں — یہ ان کا حق ہے اور اس پر مبارکباد واجب ہے۔ تنقید اس لیے ہے کیونکہ ایک قومی میڈیا شخصیت کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے کروڑوں ناظرین — خاص طور پر نوجوان نسل اور بچوں — کے لیے ایک مثبت، باوقار اور ذمہ دار کردار پیش کرے۔
جب آپ کے پاس پلیٹ فارم ہو تو آپ صرف خود کی نہیں پوری قوم کی نمائندگی کرتے ہیں۔ پاکستان کو آج ایسے میڈیا چہروں کی ضرورت ہے جو شعور دیں، اقدار کی حفاظت کریں، اور قوم کو اوپر اٹھائیں — نہ کہ محض وائرل ہونے کے لیے ہر حد کو پار کرتے رہیں۔
سکس لٹکس کا موقف: ہم میڈیا کی آزادی کے حامی ہیں، لیکن اس کے ساتھ ذمہ داری بھی لازم ہے۔ جب میڈیا شخصیات خود کو احتساب سے بالا سمجھنے لگیں، تو پھر عوام کو آواز اٹھانی ہی ہوگی۔ یہ مضمون اسی آواز کا حصہ ہے۔